#Save_Humanity

#CoppiedFB_IMG_1504478664999

برما کے مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟
اس موضوع پر کافی کچھ پڑھا دیکھا اور سنا اس کا دس نکاتی خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

(1) سب سے اہم اور اولین بات یہ ہے کہ ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ہر نماز کے بعد، راتوں کو اٹھ کر اور دعا کی قبولیت کے اوقات میں۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کی ذات ہر چیز پر قادر ہے اور اگر ہمارے دلوں میں واقعی ان کا درد ہے تو ضرور وہ ہمیں ان مواقع پر یاد رہیں گے اور اگر یہ دعوے محض زبانی دعوے ہیں تو پھر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

(2) سوشل میڈیا استعمال کرنے والے تمام مسلمان اگر یکجا اور یکسو ہوکر منظم طریقے سے اس مسئلہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں تو بہت فرق پڑسکتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ان ہیش ٹیگز کو زیادہ سے زیادہ اپنی پوسٹس میں استعمال کیا جائے اور فضول پوسٹنگ سے بچتے ہوئے اپنی دلچسپی کا محور اسی کو بنایاجائے۔
#saverohingyamuslims
#SAVEROHINGYA

(3) پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اپنی بساط کی حد تک اس مسئلے کو اجاگر کیاجائے۔ اس معاملے میں کسی بھی اخبار یا چینل سے وابستہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حصے کا کام کرے۔ کوئی مضمون لکھ سکتا ہے، رپورٹ بناسکتا، پیکج بناسکتا ہے، ڈوکومینٹری بناسکتا ہے تو بنائے۔یہ ہرگز نہیں کہنا چاہیے کہ میرے کرنے سے کیا ہوجائے گا؟ اس لیے کہ قیامت میں آپ سے آپ ہی کے عمل کا پوچھا جائے گا اور آپ کے بس سے زیادہ کسی چیز کا نہیں پوچھا جائے گا۔

(4) پاکستانی حکومت ،اقوام متحدہ ،او آئی سی اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم ممالک کو اپنے موثر احتجاج اور میڈیا کے ان سارے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے متوجہ کیاجائے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے برمی حکومت کو قتل عام روکنے پر مجبور کرے اور انڈونیشیا کے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مانند اراکان کو آزادی دلوائے۔
(5) اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں موجود ہر ایک رکن اسمبلی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اسمبلی میں اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ عوام اپنے متعلقہ رکن اسمبلی کو اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں اور ہر رکن اسمبلی اس کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرے۔

(6)ترکی نے اس موقع پر بھی قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ بنگلہ دیش اگر اپنے بارڈر ان مسلمان بھائیوں کے لیے کھول دیتا ہے تو بڑی حد تک ان کی داد رسی کی جاسکتی ہے اور یہ سارے اخراجات ترکی حکومت برداشت کرے گی۔

(7) بے گھر ہوکر جنگلوں میں یا بنگلہ دیش کے بارڈر پر پناہ گزینوں کی انسانی ضروریات کو پورا کرنا بھی اس مشن کا حصہ ہونا چاہیے۔ دواؤں ،کھانوں اور دیگر ضروریات کی کفالت کے لیے مناسب بندوبست کیا جائے ۔ اس سلسلے میں حضرت مولانا نور البشر صاحب دامت برکاتہم (مہتمم معہد عثمان بن عفان کورنگی) سے رابطہ کرکے ممکنہ طریقہ کار کے بارے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

(8) جو لوگ اور ادارے اس حوالے سے کوشش کررہے ہیں ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیاجائے۔

(9) برما کے سفارت خانے میں فون، میسج ای میل اور فیکس کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ رابطہ نمبر اور پتا درج ذیل ہے۔

Myanmar Embassy in Islamabad, Pakistan
99-101, Street 5, G-5, Diplomatic Enclave
Islamabad
Pakistan
TELEPHONE (+92) (51) 283-2232
FAX(+92) (51) 283-2233
EMAIL embassy_myanmarisb@yahoo.com
WEBSITE http://www.me-islamabad.org
OFFICE HOURS 08.30-15.30
HEAD OF MISSION
Mr. Win Naing, Ambassador,

احتجاج ان الفاظ کے ساتھ بھی ریکارڈ کروایاجاسکتا ہے۔

STOP KILLING INNOCENT MUSLIM IN YOUR COUNTRY, I AM WAITING YOUR REPLY.

جواب موصول ہونے پر اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں

(10) سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اراکین بھی احتجاج کا آئینی و جمہوری حق استعمال کریں اور عوام الناس میں بیداری اور آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس بارے میں ایکشن لینے پر مجبور کرے۔

رشید احمد خورشید

Advertisements

ھم اتنے حساس کیوں ہیں؟

اس نے جب مجھے یہ کہا تو مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہوا  پھر میں نے بھی بہت سنائی اس کے بعد کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی آج کل تو لوگوں کو بلکل بات کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔ یہ وہ جملے ہیں جو ھم اکثر بولتے نظر آتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کے اس سب میں ہمارا رویہ کیا تھا۔ ہم اپنے رویے کی ساری کمیاں کوتاہیاں بھی دوسرے کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری و ذمہ قرار دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں معاملہ خراب ہونے میں ساری غلطی سامنے والے کی ہی تھی ہم تو کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتے۔

یونہی ہنسی ہنسی میں
ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں
کوئی چھوٹی سی تیکھی بات
کوئی چبھتا ہوا جملہ
کوئی زہر آلود لہجہ
کوئی بےضرر سی ذومعنی بات
سننے والے کے دل میں گھاؤ لگا جاتی ہے
پھر کتنے ہی تلافی کے مرہم لگاؤ
قطرہ قطرہ خون ٹپکتا ہی رہتا ہے
وہ آنسو
جو آنکھ سے گرتا ہی نہیں
اندر ہی اندرجم جاتا ہے
اور
یونہی ہنسی ہنسی میں
ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں..

اور ہمیں اس چیز کا اندازہ تک بھی نہیں ہوتا۔ہم اپنے معاملے میں تو بہت حساس ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے معاملے میں بہت بے حس ہوتے ہیں اور ہمارا یہی رویہ ہمیں دوسروں کی نظر سے گرا دیتا ہے۔ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا ہم کب کس کے دل سے کھیل جاتے ہیں۔اور اس کے باوجود ھم خود ہی یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کے کسی نے ہمارے ساتھ زیادتی کر دی،کسی نے ہمارے احساسات کا خیال نہیں کیا، کسی نے ہمارا احترام نہیں کیا کیونکہ ہم بہت حساس ہیں اس لیے ہم یہ سب باتیں محسوس کرتے ہیں لیکن صرف اپنے لیے۔تو میرا سوال یہی ہے ہم اتنے حساس کیوں ہیں کے ہمیں اپنے احساسات کے اگے کسی اور کے احساسات دیکھائی ہی نہیں دیتے؟FB_IMG_1503962573081